Karbala walon ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Irfan Hussain
کربلا والوں کے نائب عزادار ہیں ہم
غم شبیر پہ جاں دینے کو تیار ہیں ہم
جب بھی عباس کے پرچم کو اٹھا لیتے ہیں
اپنے ہی خون میں ہم لوگ نہا لیتے ہیں
ازم حیدر سے تو زہرا سے دعا لیتے ہیں
غم شبیر میں ڈھالا ہوا کردار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
ماتمی چہرے اجالوں سے وضو کرتے ہیں
پیرہن زخموں کے آشکوں سے رفو کرتے ہیں
پھول سینوں کو تو آنکھوں کو لہو کرتے ہیں
جس کو زینب نے سجایا ہے وہ گلزار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
وقف ہر سانس ہے شبیر تیرے غم کے لیئے
ہاتھ شانوں کا ہے عباس کے ماتم کے لئے
پرورش کی گئی ہم سب کی محرم کے لئے
سو گیا سارا جہاں آج بھی بے دار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
بہتے پانی میں کبھی آگ لگا دیتے ہیں
کبھی جلتے ہوئے شعلوں کو بجھا دیتے ہیں
ہم عزاداروں کے آنسوں یہ صدا دیتے ہیں
داور صبر کا منہ بولتا انکار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
غم دنیا کا کوئی غم نہیں کرتے ہم لوگ
رونق شمعِ عزا کم نہیں کرتے ہم لوگ
جب تلک شاہ کا ماتم نہیں کرتے ہم لوگ
ہوتا رہتا ہے یہ احساس کے بے کار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
یوں رش حملہء شبیر کہاں ختم ہوی
گرم یہ جزبہء زنجیر کہاں ختم ہوی
اب بھی زینب کی وہ تقریر کہاں ختم ہوی
وہی کوفہ ہے یہ دنیا وہی مختار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
جو دلوں میں غم سرور کی خلش رکھتا ہے
جیب میں مثل عطامیز تپش رکھتے ہیں
ہر نظر میں متوکل کی روش رکھتے ہیں
ایسے لوگوں سے ہر ایک حال میں بیزار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
کتنا نایاب ہے قرآن عزاداری کا
سب کو حاصل نہیں عرفان عزاداری کا
مرتبہ دیکھ مسلمان عزاداری کا
اک وفادار قبیلے کے عزادار ہیں ہم
کربلا والوں کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.