Na khusravi ke liye hai na afsari ke liye
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hasan Askari (a.s) recited by Mir Hasan Mir
نہ خسروی کے لیے ہے نہ افسری کے لیے
زبان وقف ہے بس مدح عسکری کے لیے
اگر نہ ملتی انہیں نور عسکری کی زکوۃ
ترستے چاند ستارے بھی روشنی کے لیے
گرایا آپ کا روضہ جنہوں نے اے مولا
شکار پہلا بنیں گے وہ آخری کے لیے
امام پھر سے بلائیں مجھے بھی سامرہ
ترس رہی ہے جبیں کب سے بندگی کے لیے
میرے امام کا ہمسر وہ کیسے لاتے بھلا
ملا نہ جب کوئی قنبر کی ہمسری کے لیے
یہ بولے دار پہ میثم میں کیسے رک جاؤں
زبان دی ہے مجھے جب علی علی کے لیے
علی کو دیکھ کے بالیں پہ میں پکاروں گا
اے میری موت ٹھہر جا تو دو گھڑی کے لیے
مجھے ہے فخر کہ میں ان کے در کا نوکر ہوں
فرشتے خود جہاں آتے ہیں نوکری کے لیے
نبی کی آل سے ٹکراؤ کیا ضروری ہے
طریقے اور بھی رائج ہیں خودکشی کے لیے
علم برائے صحابہ تھا جنگ خیبر میں
الف سے سب کے لیے عین سے علی کے لیے
اب اس سے بھر کے شرف آدمی کا کیا ہوگا؟
رکی ہوئی ہے قیامت اک آدمی کے لیے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.