Beemar mar na jaye bazar aa raha hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Shahid Baltistani
بیمار مر نہ جائے بازار آ رہا ہے
امت حجاب میں ہے سیدانی بے ردا ہے
زہرا کی بیٹیوں کے چھینے گئے ہیں پردے
اب چادروں کے بدلے کوئی کفن اڑھا دے
عابد جنازے لے کر بازار میں کھڑا ہے
سجاد کے بدن کا ہر زخم رو رہا ہے
کوفے کی شہزادی کوفے میں بے ردا ہے
سادات فاطمہ پر کیا وقت آ گیا ہے
برداشت اس ستم کو کوئی کرے گا کیسے
بیٹے کے آگے کھائے اک باپ تازیانے
باقر کا امتحاں تو سجاد سے بڑا ہے
ہاتھوں میں شام والے پتھر لیئے ہوئے ہیں
اک جشن کا سماں ہے روشن دیئے ہوئے ہیں
دل بجھتے جا رہے ہیں یہ شام کی ہوا ہے
مقتل میں تیرہ ضربیں شبیر پر چلی ہیں
نامحرموں کی نظریں زینب پہ پڑ رہی ہیں
چاروں طرف سے خنجر بی بی پہ چل رہا ہے
جاری لہو ہے سر سے کیا وقت بیکسی ہے
نیزے پہ شہ کے سر کو حسرت سے دیکھتی ہے
زینب کو راستے میں پتھر جہاں لگا ہے
شبیر کی سکینہ بازار سے ہے گزری
اتنے لگے ہیں پتھر پہلو ہوا ہے زخمی
پہچاننا ہے مشکل وہ حال ہو گیا ہے
یہ قافلہ حرم کا زنداں تک آ گیا ہے
سورج یہ بادلوں میں چھپ چھپ کے پوچھتا ہے
بے جرم قیدیوں کو سایہ کہاں ملا ہے
ہائے روئے ہیں خوں تکلم چالیس سال مولا
سانسیں بھی چل رہی تھیں لیکن نہیں تھے زندہ
سجاد کا تو مقتل دربار شام کا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.