Qabr par Abbas ki ro kar yeh Jabir ne kaha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Danish Ali
قبر پر عباس کی رو کر یہ جابر نے کہا
چاہتے تھے محملوں کا کربلا میں داخلہ
شام سے آیا ہے اک پردیسیوں کا قافلہ
راستہ میں نے جو روکا ساربان کہنے لگا
سال بھر کے غمزده آنسو بہانے آئے ہیں
ہم مسافر غم مسافر کا منانے آئے ہیں
سن رکھا ہے ایک شش ماہ کی تربت ہے یہاں
ہے ہمارے ساتھ بھی اک شش ماہ بچے کی ماں
ہم علی اصغر کو اک لوری سنانے آئے ہیں
قید خانے میں ہماری ایک بچی مر گئی
جاتے جاتے نام بابا کے وصیت کر گئی
اس کی چادر تربت شہ پر چڑھانے آئے ہیں
تم اسے بارات سمجھو قاسم نوشاہ کی
ہے سیہ جوڑے میں اک دلہن ہمارے ساتھ بھی
حسرتوں کے نام کی مہندی رچانے آئے ہیں
حکم ہے عباس کا پیدل ہی آئے ہر کوئی
ہے ہمارے ساتھ اک بی بی جو چل سکتی نہ تھی
اس کو چلنا آ گیا ہے یہ بتانے آئے ہیں
سنتے ہیں کرتا نہیں کوئی دیا روشن یہاں
تربت شبیر پر رہتی ہیں بس تاریکیاں
قید خانے کے دیے اس پر جلانے آئے ہیں
دشت میں کنبہ ہمارا بھی یونہی مارا گیا
ان مسلمانوں نے جی بھر کر ہمیں پرسہ دیا
ہم کو ملنے ہر جگہ پر تعزیانے آئے ہیں
ہائے غربت کی صدا ہر قبر سے اٹھنے لگی
جب صدا جابر نے اکبر رو کے یہ صحرا میں دی
وہ بدن سے سر شہیدوں کے ملانے آئے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.