Ghair kar shabbir ko shami sitam dhate rahe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Khurram Murtaza
گھیر کر شبیر کو شامی ستم ڈھاتے رہے
دشت میں نو لاکھ اک پیاسے کو تڑپاتے رہے
سامنے شبیر کے ہنس ہنس کے نیزوں پر لعیں
لاشہء عباس کے ٹکڑوں کو لہراتے رہے
کاش تیری لاش کو سینے لگا سکتے چچا
ہائے قاسم کہہ کے اپنے ہاتھ پھیلاتے رہے
دشت میں اکبر کے قاتل اک سناں ٹوٹی ہوئی
سامنے شبیر کے لا لا کے دکھلاتے رہے
کہتی تھی رو کر سکینہ بابا سے مت جائیے
لوٹ کر آئے نہیں مقتل کو جو جاتے رہے
لے کے رخصت جب چلے خیموں سے مقتل کی طرف
چادروں کے راہ میں شہ کو خیال آتے رہے
تیر نیزے اور تلواریں نہ جن کو مل سکیں
رن میں وہ پتھر اٹھا کر شہ پہ برساتے رہے
کیا ہو ان کے زخموں کا اندازہ خرم و اسد
اشقیا لاشے پہ جن کے گھوڑے دوڑاتے رہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.