Kya tum mere Hussain ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Mir Hasan Mir
پتھر ہٹا کے لاش سے زینب نے دی صدا
کیسے پڑے ہیں جسم کے ٹکڑے جدا جدا
پہچان لوں گی میں تمہیں آواز مجھ کو دو
دم توڑتے جو دیکھا ہے کڑیل جوان کو
آنکھوں میں اب بہن کی اجالا نہیں رہا
ہائے ہائے میرے غریب کا کیا حال کر دیا
گھوڑوں سے لاشہ دشت میں پامال کر دیا
پہچانوں کس طرح سے بدن سے ہے سر جدا
کرتا رہا ہے ذبح کی کوشش کہاں کہاں
خنجر کے ہیں کٹی ہوئی گردن پہ بھی نشاں
کاٹا ہے کس طرح سے ستمگار نے گلا
پہچاننا تمہارے لیے بھی کٹھن ہوا
دیکھا ہے پہلی بار جو زینب کو بے ردا
آتی ہے شرم جلد بتا دو مجھے زرا
آہستہ سے جواب دو ہے ساتھ اس کی ماں
کیا اب تمہارے پاس ہے معصوم بے زباں
ننھا سا لاشہ کس کا یہ سینے پہ ہے رکھا
کیا لے گئے ہیں لوٹ کے سب کچھ یہ اشقیاء
تن پر بچا ہے ماں کا یہ کرتا سلا ہوا
نکلے تھے جب خیام سے یہ حال تو نہ تھا
وہ بھی تمہاری طرح سے زخمی نہ ہو کہیں
دل کو میرے یہ لگتا ہے موجود ہے یہیں
آتی ہے ماں کے رونے کی نزدیک سے صدا
دیکھو بندھی ہیں ہاتھوں میں میرے بھی رسیاں
اب اور لو بہن کی نہ غربت کا امتحاں
کچھ تو جواب دو مجھے صغری کا واسطہ
زینب پکاری میر تکلم بصد ملال
کیا مرتے وقت بھی میرے پردے کا تھا خیال
ہے مٹھیوں میں کس لیے یہ خاک کربلا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.