Aye Mere Be Zuban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اے میرے بے زبان تم رہ گئے کہاں
اصغر جیئے گی کیسے تیرے بغیر ماں
چہرہ وہ چاند جیسا کیسے بھلائے ماں
ہمت پہ ماں تمہاری قربان کیوں نہ جائے
سنتی ہوں تیر کھا کر تم رن میں مسکرائے
مادر کی لاج رکھ لی شاباش میری جاں
کیا وقت آگیا ہے بانو کی بیکسی پر
غربت پہ تیری ماتم کیسے کرے گی مادر
اعدا نے باندھ دی ہیں ہاتھوں میں رسیاں
کیا زیر خاک اب بھی سوئے ہو منہ چھپائے
ماں ساری بیبیوں سے شرمندہ ہو نہ جائے
ہر اک شہید کا ہے سر برسر سناں
مادر کی ہے وصیت بیٹا خیال رکھنا
گودی میں ان کی اصغر جانے کی ضد نہ کرنا
پہلے ہی ہیں شکستہ دادی کی پسلیاں
سانسیں تو چل رہی ہیں زندہ کہاں رہی ہے
ماں زندگی سے اپنی آزادی چاہتی ہے
مشکل کشاء ہو تم بھی کھلوا دو بیڑیاں
دشوار ہو گیا ہے غم میں تمہارے جینا
اب خالی گود جا کر ماں کیا کرے مدینہ
مجھ کو وہیں بلا لو اے لال ہو جہاں
یہ اجڑی گود بیٹا کیسے سکون پائے
حالت پہ تیری ماں کی ہنستے ہے شام والے
دامن میں ہیں تمہارے جھولے کی لکڑیاں
جنگل میں ایک بیٹا آواز گونجتی ہے
یہ سوچ کر بھی مادر مقتل میں رو رہی ہے
لگتا ہے درد سے تم لیتے ہو سسکیاں
روتے تھے سب تکلم اک ماں نے جب کہا تھا
پیغام کربلا میں جا کر ہوا یہ دینا
زنداں کے در پہ اب بھی بیٹھی ہے ایک ماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.