Ali Akbar Ki Azaan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
صبح عاشورہ ہوئی ماں نے رو رو کے سنی علی اکبر کی اذاں
آخری فجر ہے یہ اس مؤذن کے لیے پھر یہ آواز کہاں
دشت میں پیاسے مؤذن نے جو تکبیر کہی آ گئی اپنے مصلے پہ علی کی بیٹی
یاد پھر آئی اسے اپنے بابا کی اذاں رو پڑی عون کی ماں
ابھی کچھ دیر سلامت ہے حرم کا پردہ شام کے وقت جب آئے گی اذانوں کی صدا
جاں بچانے کے لیے سر چھپانے کے لیے ہائے چادریں ہوں گی کہاں
رو کے بیٹے نے کہا باپ سے حسرت ہے میری آپ کی بہنیں تو سن لیں گی صدا اکبر کی
ان ہواؤں سے کہیں رخ مدینے کا کریں میری صغری ہے وہاں
نام آیا جو محمد کا تو روئے مولا انا للہ پڑھا اور یہ غازی سے کہا
اس کو ماریں گے سناں یہ مسلمان بھلا رحم کھائیں گے کہاں
آیا جب نام علی اٹھ کے یہ مولا نے کہا میں فدا آپ پہ بابا میری اولاد فدا
تیر اصغر کے لگے سینہ اکبر کا چھدے مجھ پہ خنجر ہو رواں
اتنا تڑپے گا حسین ابن علی اے بیٹا تیری ماں تیری پھپھی تیری سکینہ صغری
جی نہ پائیں گے سبھی تجھ کو برچھی جو لگی تجھ میں ہم سب کی ہے جاں
مسجد کوفہ نظر آنے لگی کرب و بلا دو اذانوں پہ بہت روئی ہیں بنت زہرا
آج تک بھولی نہیں ایک بابا کی اذاں ایک اکبر کی اذاں
کس قدر درد میں ڈوبی تھی صدا اکبر کی غش سے اٹھ کر کہا سجاد نے بتلائیں پھپھی
سب کیوں روتے ہیں یہاں شور ہے کیسا بپا کون دیتا ہے اذاں
کیسے منظر ہو بھلا میر تکلم وہ رقم باب ساعت پہ ہوئیں سترہ اذانیں جس دم
سن کے اک ایک اذاں رو کے کہتی تھی وہ ماں میرے اکبر ہو کہاں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.