Ashk e Gham Hai Teri Ata Zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Joan Rizvi
اشک غم ہے تری عطا زینب تو ہے شبیر کی بقا زینب
دونوں عالم کی پردہ داری ہو تیری نعلین پہ فدا زینب
تیرے بابا سا ہے پدر کوئی نہ کوئی ماں ہے تیری مادر سی
نہ محافظ ہے کوئی غازی سا نہ ہی چادر ہے تیری چادر سی
اور تیرے حسن حسین سا بھی کوئی بھائی نہیں ہوا زینب
اپنے بابا کی پاک سیرت بھی باپ کا حوصلہ بھی دکھلایا
گئی دربار میں حسن بن کر صبر شبیر کو بھی دہرایا
کیا دربار شام میں تو نے ماں کے خطبے کا ترجمہ زینب
زخم ہی زخم ہیں سہے تو نے شہ کے مقتل سے قید خانے تک
آزمائے گئے سبھی تجھ پر کند خنجر سے تازیانے تک
حد تو یہ ہے برستے شعلوں میں تو نے سجدہ ادا کیا زینب
رو پڑے بے کفن جنازے بھی دیکھ کر تیرا حوصلہ بی بی
تو نے آنکھوں کے سامنے دیکھا کٹتے شبیر کا گلا بی بی
خون خنجر کا پونچھنے کے لیے کام آئی تری ردا زینب
اجر اتنا ملا رسالت کا تیرے چہرے کا رنگ بدلا ہے
اور جہاں سے گزر ہوا تیرا اسی رستے کا رنگ بدلا ہے
تھا حسن کے کفن کے جیسا ہی رنگ تیرے لباس کا زینب
سولہ سو میل تک برہنہ سر شامیوں نے تجھے پھرایا ہے
ابن نوفل نے مار کر نیزہ راستے بھر تجھے جگایا ہے
تو ہے شبیر کی بہن اس کا کر دیا تو نے حق ادا زینب
زخم مادر ملا تھا یثرب میں خمس کوفے میں پھر یتیمی کا
پھر حسن اور کربلا کا غم درد پھر شام اور سکینہ کا
زندگی میں ہوئی نہیں محسن رنج و غم سے کبھی رہا زینب
تیرا غازی جو صحن عصمت میں بھی ترے نقش پا مٹاتا تھا
بات کرتا تو تیرے قدموں سے اپنی نظریں نہیں اٹھاتا تھا
کیسے دیکھا ہے شام تک اس نے تجھ کو نیزے سے بے ردا زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.