In Ki Lahad Bana De
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Farzandane Muslim recited by Syed Muhammad Shah
جب قتل ہو چکے وہ رقیہ کے لاڈلے
دریا میں اس نے پیاسوں کے لاشے بہا دیئے
موجوں کے لب پہ نوحہ تھا اک شور وشین تھا
دونوں کے سر لعین نے تن سے جدا کیئے
میلوں تلک وہ موجوں پے محو سفر رہے
دریا کنارے یہ کسی بی بی کا بین تھا
احسان کر مسیب زہرا کی تو دعا لے ان کی لحد بنا دے
مہمان بن کے تیرے آئے ہیں دونوں لاشے ان کی لحد بنا دے
میں خود لحد بناتی پر تجھ سے کیا کہوں اب
پہلو سے ہاتھ میرا اٹھتا نہیں مسیب
حیدر بھی منتظر ہیں ان سے انہیں ملا دے
قیدی تھے وقت آخر اب بھی اسیر ہوں گے
اتنا خیال رکھنا لاشوں میں تیر ہوں گے
ظالم نے ان کے لاشوں پے تیر ہیں چلائے
دربار لے گئے ہیں سر ان کا کوفے والے
اس واسطے نشاں ہیں چہرے پے انگلیوں کے
حارث نے رات بھر ہیں ان کو طمانچے مارے
دن عید کے ہی ان کا بابا گیا ہے مارا
دونوں نے اک برس ہے زندان میں گزارا
کب اتنی زندگی ہے جتنے ستم اٹھائے
آنکھوں سے لگ رہا ہے جاگے ہیں جیسے برسوں
بچھڑے ہیں ماں سے جب سے سوئے نہیں ہیں دونوں
دونوں تھکے ہوئے ہیں تو اب انہیں سلا دے
مہماں بنا کے ان کو امت نے ہے ستایا
زینب کی طرح ان کو کوفہ نہ راس آیا
دونوں یتیم ہو کر سوئے جناں سدھارے
دل تیرے اس عمل سے خوش ہو گا مصطفی کا
ناصر ہے تو علی کا ناصر ہے فاطمہ کا
ہم سب کے سب ہیں ضامن محشر میں بھی تمہارے
محسن پکاری زہرا ہو گا یہاں پے گریہ
تا حشر اب رہے گا آباد تیرا قریہ
تو میرے لاڈلوں کو اس خاک میں چھپا دے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.