Ghadeer e Khum Sajaya Ja Raha Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Ghadeer recited by Mir Sajjad Mir
غدیر خم سجایا جا رہا ہے
کوئی وعدہ نبھایا جا رہا ہے
تبھی تو جھگڑا بھرتا جا رہا ہے
علی کا رتبہ سوچا جا رہا ہے
پسینہ آگیا ہے ایڑیوں تک
انہیں اتنا تپایا جا رہا ہے
علی میثم کو لینے آ چکے ہیں
تبھی تو مسکرایا جا رہا ہے
تیری نیت نہیں سلمان جیسی
تو کیوں داڑھی بڑھاتا جا رہا ہے
غدیر اور کربلا کی مٹی لے کر
علی والا بنایا جا رہا ہے
تھا حج کرنے منافق ساتھ آیا
مگر خم سے اکیلا جا رہا ہے
مقصر کے حوالے کر دیا ہے
تیرے ہاتھوں سے بیٹا جا رہا ہے
بتا دو کون تھے زہرا کے قاتل
مسلمانوں کو سمجھا جا رہا ہے
کہاں ہیں میرے آنسو ایک لا دو
مجھے جنت سے روکا جا رہا ہے
یہ کیوں سجاد زیر لب حسیں ہے
قصیدہ گنگنایا جا رہا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.