Mera Muslim Akela Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Muslim (a.s) recited by Mir Hasan Mir
کہا شبیر نے غازی وہ دیکھو جانب کوفہ میرا مسلم اکیلا ہے
نہ کوئی مونس و یاور نہ کوئی پاس ہے بیٹا میرا مسلم اکیلا ہے
بڑی دشوار منزل ہے کبھی ایسا نہ وقت آئے
وطن سے دور غربت میں کوئی ایسے نہ دکھ پائے
رقیہ ہونے والی ہے ابھی کچھ دیر میں بیوہ
میرے بھائی کو چاروں سمت سے فوجوں نے گھیرا ہے
ہزاروں مارنے والے ہیں اور مسلم اکیلا ہے
ہیں کوفی چار جانب نہیں ہے کوئی بھی اپنا
کٹے ہونٹوں کا اس کے خون جب پانی میں گرتا ہے
گرا کر جام پانی کو بڑی حسرت سے تکتا ہے
نہ جانے کتنا زخمی ہے نہ جانے کب سے ہے پیاسا
جو میرے دل پہ گزری ہے انہیں بتلا نہیں سکتا
تمہاری بیٹیوں کے ساتھ کوفہ جا نہیں سکتا
بچا لیں میرے بھائی کو نجف نزدیک ہے بابا
یہ کل تک ساتھ تھے اس کے ابھی سب ہو گئے باغی
سفیر ابن حیدر کی عجب غربت ہے یہ غازی
کوئی گھر سے نہیں نکلا صدا دیتی رہی زہرا
نظر آتے نہیں عباس کو مسلم کے شہزادے
محمد اور ابراہیم اس کے ساتھ نکلے تھے
کہاں پر کھو گئے دونوں نہ جانے کیا ہوا ایسا
میرے عباس غازی کی بہن کا ہے یہاں روضہ
تیرے پرسے کو مولا میں تو کوفہ آ نہیں سکتا
میں بی بی پاک دامن کو تیرا نوحہ سناؤں گا
سوائے ابن عروہ کے کوئی آیا نہیں آگے
بچانے تو نہیں آئے وہ لاشہ ہی اٹھا لیتے
کہاں خط لکھنے والے ہیں کوئی اب تک نہیں آیا
کہا اکبر یہ رو رو کر شہ والا نے غازی سے
وہ دیکھو بیٹھی ہیں اماں وہاں دامن کو پھیلائے
سر مسلم کو سینے سے لگائے کہتی ہیں زہرا
لپٹ کر شہ کے قدموں سے کہا غازی نے اے مولا
مجھے پہنچا دیں کوفہ تو بدل دوں شہر کا نقشہ
غریبی پر میرے بھائی کی سارا شہر ہے ہنستا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.