Ishq Taseer Se Naumeed Nahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General
عشق تاثیر سے نومید نہیں
جاں سپاری شجر بید نہیں
سلطنت ، دست بدست آئی ہے
جام مے ، خاتم جمشید نہیں
ہے تجلی تری سامان وجود
ذرہ بے پرتو خورشید نہیں
راز معشوق نہ رسوا ہو جائے
ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
گردش رنگ طرب سے ڈر ہے
غم محرومی جاوید نہیں
کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.