Kahan ghareeb ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Farhan Ali Waris
غم حسین میں کیسا شرف یہ پایا ہے
کہ اپنے ہاتھوں سے میں نے الم سجایا ہے
سنا ہے آتی ہے مجلس میں فاطمہ زہرا
یہ بات سونچ کے فرش عزا بچھایا ہے
کرم یہ مجلس شبیر نے کیا ورنہ
کہاں غریب کا گھر اور کہاں حسین کی ماں
خبر ہے بنت رسول خدا کے آنے کی
بدل رہی ہے ہوایں غریب خانے کی
میرا نصیب کے مہماں ہوی میری زہرا
کہاں غریب کا گھر۔۔۔
فرشتے شاہ و گداگر سبھی ہیں پیش نظر
ہیں انبیاء کی خطاریں لگی میرے گھر پر
تمہارے آنے سے بی بی یہ مرتبہ پایا
کہاں غریب کا گھر۔۔۔
یہ مجلسِ شبیر میں بہتے ہوئے آنسوں
فردوس کے باغوں میں سجا دیتی ہے زہرا
شہزادی زمیں پر اسے گرنے نہیں دیتی
بچ جائے تو کوثر میں ملا دیتی ہے زہرا
یہ نوحہ خوانی یہ سوز و سلام اور ماتم
ہمارے آشک ہے بی بی کے زخم کا مرحم
اگر نہ ہوتے وسیلہ یہ ماتم و نوحہ
کہاں غریب کا گھر۔۔۔
غریب خانے کو جنت بنا دیا بی بی
خوشی یہ ایسی ہے جس نے رلا دیا بی بی
ہر ایک آشک نے آنکھوں سے گرتے گرتے کہا
کہاں غریب کا گھر۔۔۔
سر حسین جو شیریں کے گھر میں آیا تھا
سر حسین کے ہمراہ آی تھی زہرا
جو دیکھا بی بی کو شیریں نے یہ کیا نوحہ
کہاں غریب کا گھر۔۔۔
جب کسی گھر میں کوئی مر جائے
دنیا غم بانٹنے کو آتی ہے
ہاے کتنی غریب ہے زہرا
پرسہ لینے بھی چل کے آتی ہیں
گھر میں میرے مجلس ہوی
اور بچھ گیا فرش عزا
ذاکر نے جب مجلس پڑھی
اور حال رخصت کا جو پڑھا
اتنا روی زہرا
فرحان اور مظہر پڑھا
نوحہ شہ مظلوم کا
تھا ذکر جب عاشور کا
شبیر پر خنجر چلا
اتنا روی زہرا
دیتے رہے اہل عزا
غازی کا پرسہ سرور کا پرسہ
اکبر کا قاسم کا اصغر کا پرسہ
اتنا روی زہرا
زینب کا کلثوم و فضہ کا پرسہ
سجاد بالی سکینہ کا پرسہ
اتنا روی زہرا
بالی کا پرسہ چادر پرسہ
عون و محمد کا باقر کا پرسہ
اتنا روی زہرا
نیزوں پہ رکھے ہر ایک سر کا پرسہ
بی بی تمہارے بھرے گھر کا پرسہ
اتنا روی زہرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.