Kaabe pe alam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Rehan Abbas
اب وقت کے ظالم ہوش میں آ
ابھی آخری حیدر باقی ہے
وہ ظلم و ستم باقی نہ رہے
شبیر کا لشکر باقی ہے
اٹھتا ہے الم بتلانے کو
عباس دلاور باقی ہے
پھر ثانیء حیدر ہی ٹوٹے
نیزے سے قیامت لاے گا
کعبے پہ الم لہراے گا
اے آل پیمبر کے دشمن
سن غور سے وہ دن دور نہیں
پردے میں جو شہ کا وارث ہے
مختار ہے وہ مجبور نہیں
وہ حکم خدا کا تابع ہے
لاچار نہیں بے نور نہیں
جب شان وغا دکھلاے گا
بن موت ہی تو مر جاۓ گا
تم کرب و بلا کیسے لو گے
وہ کربوبلا شبیر کی ہے
داخل نہیں ہو سکتے ہر گز
وہ جاے اماں بے شیر کی ہے
اور جو بھی شہ مظلوم کی ہے
وہ سرور کی ہمشیر کی ہے
صحراے عطش تو کیا لے گا
جب شام نہیں لے پاے گا
ہے شام میں زینب کا روضہ
زنداں میں سکینہ کا روضہ
روضوں پہ ابھی بھی رہتا ہے
عباس اور اکبر کا پہرہ
قبروں ہی حفاظت کو اک دن
وہ ساکن غیبت آے گا
پھر حشر تمہارا کیا ہو گا
جب تیغ علی دکھلاے گا
ہر گھر میں بپا مجلس ہو گی
ہر گھر میں بچھیگی فرش عزا
نوحوں کی صدایں گونجے گی
ہر سو شہ کا ماتم ہو گا
تعمیر بقیہ میں ہوگا
پھر آل پیمبر کا روضہ
اجڑا ہے جو گلشن برسوں سے
دوبارہ سجایا جاے گا
گلشن گلشن صحرا صحرا
کوچہ کوچہ پریا پریا
ہر زرہ پڑھے گا دنیا کا
بس اس کی عدالت کا کلمہ
کونین میں رائج ہوگا فقط
مولا کے گھرانے کا سکہ
اب جلد ہی کعبے کی چھت پر
غازی کا الم لہراے گا
عباس جری نے پرچم کو
گاڑا بھی تو گاڑا پانی میں
یہ مشک سکینہ ملنے کو
آجاے نہ مولا پانی میں
ریحان و مبارک اس طرح
ٹہرارا پرسہ پانی میں
جس طرح جری پیاسا پلٹا
وہ مولا میرا بتلاے گا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.