Khuda Ne Sirf Deen Sadaat Ko Sardariyan Phir Bhi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Meesam Kashmiri
خدا نے صرف دیں سادات کو سرداریاں پھر بھی
مگر امت نے کیں ان پر ستم آرائیاں پھر بھی
بتائی تھی نبی نے آل کی توقیر امت کو
مگر سہتے رہے سادات ظلم و سختیاں پھر بھی
ستم کی انتہا تو ہو چکی تھی قتل زہرا پر
مگر بی بی کی تربت کی ہوئیں مسماریاں پھر بھی
علی کا سر ہوا ٹکڑے، کٹی شبیر کی گردن
سدا سجدے کی حالت میں رہیں پیشانیاں پھر بھی
مسلماں خود یہ کہتے تھے کہ ہمشکل نبی ہے وہ
بہت ماری گئیں اکبر کو رن میں برچھیاں پھر بھی
کٹے غازی کے بازو، چھد گیا حلق علی اصغر
جہاں میں رہ گئیں پانی کی تشنہ کامیاں پھر بھی
علی جیسے پدر نے بے ردا دیکھا نہ تھا جن کو
سر بازار وہ لائی گئیں سیدانیاں پھر بھی
سلایا قبر میں عابد نے معصومہ کو خوں رو کر
ابھی تک اٹھتی ہیں زنداں سے اس کی سسکیاں پھر بھی
تقی، مولا نقی، کاظم، رضا رہبر تھے امت کے
سہیں سب نے مگر قید ستم کی سختیاں پھر بھی
بہتر سر، جلے خیمے، ردائیں، تشنگی، قیدیں
ارم دیں کی بقا کو چاہئے دو بالیاں پھر بھی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.