Darya nahi tha us ki rawani ka aks tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala
دریا نہیں تھا اس کی روانی کا عکس تھا
میں تشنہ لب تھا سامنے پانی کا عکس تھا
دشت بلا میں نقش کف پا نہیں تھے وہ
اجڑے مسافروں کی کہانی کا عکس تھا
یہ عجز مصلحت کی علامت کا نام ہے
وہ تمکنت کہاں تھی جوانی کا عکس تھا
آنکھوں کی پتلیوں میں اداسی کی شکل تھی
اور خامشی میں چوٹ پرانی کا عکس تھا
مہکا ہوا تھا رات کا دامن گزشتہ رات
ہر ایک سمت رات کی رانی کا عکس تھا
یہ راز بھی عزتی کھلا ہم پہ وقت مرگ
ہر سانس تو فنا کی نشانی کا عکس تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.