Thi Dasht e Karbala Mein Yeh Shabbir Ki Sada
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mesum Kashmiri
تھی دشت کربلا میں یہ شبیر کی صدا
دریا کنارے ہائے میرا بھائی رہ گیا
وہ غم ملا کہ روتی تھیں ساری ہی بیبیاں
خیموں میں اس گھڑی تو قیامت سی تھی عیاں
دریا سے آکے جب شہ مظلوم نے کہا
کہتے تھے شاہ تجھ کو سکینہ ہے یہ خبر
پانی وہ بھر کے نہر سے آنے لگا تھا گھر
لگتے ہی تیر مشک سے پانی جو بہہ گیا
ہے کون اب جو بھائی کہے گا یہاں مجھے
اب کون لے کے آئے گا پانی فرات سے
اب اے سکینہ ہو گا تیری تشنگی کا کیا
خالی علم اٹھائے تھے جب شاہ مشرقین
تھا یاعلی زبان پہ کہتے تھے یہ حسین
آکر تو دیکھو بابا سر دشت کربلا
چادر کا پاسباں تھا محافظ تھا وہ جری
اب اپنے بعد مجھ کو تو لگتا ہے بس یہی
چھن جائے گی اے زینب بیکس تیری ردا
رو رو کے کہہ رہے تھے یہی ابن سیدہ
اماں میرا تو سارا چمن ہی اجڑ گیا
تھا جس پہ ناز مجھ کو وہ سقا نہیں رہا
آقا ہی بس کہا ہے مجھے جس نے عمر بھر
مرنے کے وقت تھا میرے زانو پہ اس کا سر
مارا گیا فرات پہ واپس نہ آسکا
اظہار اس گھڑی تو لرزنے لگی زمیں
مقتل میں آکے جب یہ پکارے تھے شاہ دیں
اکبر اٹھو سہارا مجھے تم ہی دو ذرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.