Jab mai bhi karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Sajjad Mir
جب میں بھی کربلا کی زیارت کو جاؤں گا
پیاسوں کے زایرین کو پلاؤں گا
پوچھوں گا درد کیسا ہے پہلو کا شاہ سے
ہر گز نہ اپنا حال میں انکو سناؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
قبر غریب زہرا پہ عاشور والے دن
سجاد کی طرف سے کفن لے جاؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
بندھوا کے اپنے ہاتھوں کو حر کی طرح سے میں
سلطان کربلا تیرے روضے پہ آؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
مجھکو یقین ہے ماں وہاں ہوگی حسین کی
نظریں نہ قتل گاہ کی جانب اٹھاؤں گا
شبیر کو سناؤں گا اکبر کا مرثیہ
عباس کو سکینہ کی سناؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
جس جگہ گری تھی ناقے سے بیٹی بتول کی
واجب سمجھ کے خود وہاں پر گراؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
رگڑی تھی جس جگہ علی اکبر نے ایڑیاں
دل کہہ رہا ہے میں تو وہاں مر ہی جاؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
سجاد زایرین کی خدمت کروں گا میں
اس کام بھی نہ آیا تو کس کام آؤں گا
جب میں بھی کربلا کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.