Gham khane mein booda dil nakaam bohat hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup
غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداش عمل کی طمع خام بہت ہے
ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں؟
پابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے؟
آلودہ بہ مئے جامہ احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ!
رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.