Shaam Haye Shaam, Shaam Haye Shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
ہیں سب کی جھولیوں میں پتھر یہ کون سی بستی ہے فضہ
ہوتا ہے چراغاں کیوں گھر گھر یہ کون سی بستی ہے فضہ
پوچھو تو ذرا اماں ان سے کیوں دیکھنے ہم کو آتے ہیں
ہر سمت خوشی کا عالم ہے بازار سجائے جاتے ہیں
کیوں عید کے جیسا ہے منظر یہ کون سی بستی ہے فضہ
سجاد کی آنکھوں سے اب تک آنسو ہی برستے دیکھے تھے
اب دیکھ رہی ہوں میں اسکی آنکھوں سے مسلسل خوں بہتے
پوچھو تو کسی سے یہ جا کر یہ کون سی بستی ہے فضہ
باغی آئے باغی آئے یہ کیسی منادی ہوتی ہے
لگتا ہے زمانے بعد کوئی اس شہر میں شادی ہوتی ہے
کچھ ایسے سجے ہیں بام و در یہ کون سی بستی ہے فضہ
ہم سب کے سروں سے بہتے ہیں کس واسطے یہ خوں کے دھارے
کوئی کھولتا پانی پھینکتا ہے کوئی پھینک رہا ہے انگارے
سب مل کر مارتے ہیں پتھر یہ کون سی بستی ہے فضہ
وعدہ جو کیا تھا یثرب میں آتا ہے یاد وہی وعدہ
محسوس مجھے یہ ہوتا ہے تکتا ہے کوئی میرا رستہ
کیا شیریں کا ہے پاس میں گھر یہ کون سی بستی ہے فضہ
قرآن سناتے جاتے تھے شبیر سر نوک نیزہ
روتا تھا تکلم ابن علی جب پوچھتیں تھیں بنت زہرا
کیوں گرتا ہے عباس کا سر یہ کون سی بستی ہے فضہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.