Rota hai koi beta tooti hui turbat par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Wajhi Hasan Zaidi
روتا ہے کوئی بیٹا ٹوٹی ہوئی تربت پر
کیونکر نہ لہو روئے مادر کی وہ غربت پر
دیکھ آئی ہے مسجد میں جو ظلم و ستم زہرا
بالوں کی سفیدی سے ہو جائے گا اندازہ
گزری جو قیامت تھی خاتون قیامت پر
یہ اجر رسالت کا امت نے دیا کیسا
فی القربی کی آیت کا مطلب ہی بدل ڈالا
رونے نہ کوئی آیا محسن کی شہادت پر
چالیس بنائیں تھی قبریں جو مدینے میں
مولا یہ سمجھتے تھے نفرت تھی جو سینے میں
وہ ظلم ہوا ظاہر شبر کی شہادت پر
زہرا کی گواہی کو جس طرح ہے جھٹلایا
تحریر کے پرزوں کو جس طرح اڑایا تھا
کب ان کو یقیں ہو گا نانا کی رسالت پر
یا فاطمہ زہرا وہ کب بھولا تیرا مہدی
دروازے تلے مجھ کو رو کے جو صدا دی تھی
ہوں گریہ کناں اب بھی اس وقت مصیبت پر
آتی ہے بقیعہ سے مہدی کی صدا اب بھی
ہر غم کی نشانی وہ ہے پاس میرے ماں کی
جو لکڑیاں لائے تھے ظالم در رحمت پر
دنیا کو حقیقت یہ معلوم نہیں قاسم
بس باغ فدک پر ہی ناراض تھا کب حاکم
زہرا نے شہادت تو پائی ہے ولایت پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.