Wasiyat Bibi Fatima Zahra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
بعد بابا کے جو گزری وہ مصیبت سن لو
یاعلی فاطمہ زہرا کی وصیت سن لو
آج رخصت ہو رہی ہے تم سے زہرا یاعلی
پردہء شب میں میری میت اٹھانا یاعلی
وہ مصیبت آپ نے اچھا ہوا دیکھی نہیں
اب میں سیدھے ہاتھ سے تسبیح پڑھ سکتی نہیں
ایسا قنفذ نے ہے مارا تازیانہ یاعلی
پسلیاں توڑی گئیں کیسے یہ بتلاؤں گی میں
حشر کے میداں میں بھی اس حال میں آؤں گی میں
ہاتھ پہلو سے نہ تم میرا ہٹانا یاعلی
تازیانے کی اذیت کا اٹھانا اک طرف
وہ طمانچے قتل محسن در جلانا اک طرف
سب سے مشکل تھا مگر دربار جانا یاعلی
کہتی ہے زینب یہ مجھ سے دیکھ کر چہرہ میرا
آپ کے رخسار پر یہ نیل ہے کیسا پڑا
میں نے کھایا ہے طمانچہ مت بتانا یاعلی
چاہے آ جائے قیامت مجھ سے یہ وعدہ کرو
جب تلک مولا میرے شبیر کی مرضی نہ ہو
تب تلک میرا جنازہ مت اٹھانا یاعلی
جب میری تلقین پڑھنا یاد کر لینا ذرا
در کے گرنے سے میرا بازو بھی ہے ٹوٹا ہوا
میرے شانوں کو ذرا دھیرے ہلانا یاعلی
کربلا میں جب میرے مظلوم پر خنجر چلے
پیاس کے عالم میں وہ غازی کو جب آواز دے
میں بھی آؤں گی وہاں پر تم بھی آنا یاعلی
جب سے آئی ہوں پلٹ کر فکر ہے مجھ کو یہی
میں تو پردے میں گئی پھر بھی ضعیفہ ہو گئی
بے ردا دربار ہے زینب کو جانا یاعلی
ہاتھ پہلو پر رکھے بولیں تکلم فاطمہ
میں دعا کرتی ہوں تم آمین کہہ دینا ذرا
جلد آئے میرے مہدی کا زمانہ یاعلی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.