Hussain shah jee
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Irfan Haider
بادشاہ کربلا سلام
تو نے کر دیا عظیم کام
حضرتِ امام حسین علیہ السلام
یوں تو قبروں سے بنتے ہیں قبرستان
تو نے مگر قبروں سے کربلا سجای
ایک سلطنت بنائی
اس سلطنت کا تو ہے بادشاہ
بعد خدا بعد نبی
شاہیوں کے سلسلے کے تیسرے امام
تیرا نام تیرا کام ہمیشہ رہے گا
تو بادشاہ رہے گا
عاشِقوں کے دل کی دھڑکنوں سے آ رہی ہے صدا
حسین حسین حسین شاہ جی
کربلا والے حسین شاہ جی
مولا ہمارے حسین شاہ جی
ہر دل یہ پکارے حسین شاہ جی
مولا مولا حسین شاہ جی
بادشاہ ایسا زبردست ہے تو شاہ صاجب
شاہیاں چھوڑ کے سب آتے ہیں تیری جانب
تو ہے محراج حسین تخت اور تاج حسین
تیرے محتاج حسین
بن کے نوکر جو تیرے در پہ چلا آتا ہے
پھر کہیں بھی در تیرا وہ چھوڑ کر نہیں جاتا
کربلا والے حسین شاہ جی
مولا ہمارے حسین شاہ جی
ہر دل یہ پکارے حسین شاہ جی
مولا مولا حسین شاہ جی
تو نے تیروں کے مصلے پہ عبادت کی ہے
تو نے ہر دور میں دنیا پہ حکومت کی ہے
یا أبا عبداللہ دو جہاں میں واللہ
حکم چلتا ہے تیرا
فاطمہ کے پسر ہے ہمیں یہ خبر
تو نے جو بھی کہہ دیا وہ ٹالتا نہیں ہے خدا
کربلا والے حسین شاہ جی
مولا ہمارے حسین شاہ جی
ہر دل یہ پکارے حسین شاہ جی
مولا مولا حسین شاہ جی
آؤ زواروں میرے ساتھ چلو روضے پر
شہ کی آواز پہ لبیک پکارو مل کر
بولا شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دیں است حسین دیں پناہ است حسین
لے کے ہاتھوں میں الم تابہ رہنا دم بہ دم
جا رہا ہوں میں نجف سے کربلا یہ کہتا ہوا
سلام حسین جان سلام حسین جان
حسین حسین جان
یہ شاہ مشرقین ہے
یہ شاہ مغربین ہے
نبی کی جان علی کی دل
یہ فاطمہ کا چین ہے
قسم حسین کی قسم نہیں ہے کوئی دوسرا
خدا کی کاینات میں حسین بس حسین ہے
یا حسین الل حسین یا حسین الل حسین
ساری دنیا میں حسین
نسل زہرا میں حسین
چودہ بارہ میں حسین
کوئی نہیں تیرے سوا
کربلا والے حسین شاہ جی
مولا ہمارے حسین شاہ جی
ہر دل یہ پکارے حسین شاہ جی
مولا مولا مولا مولا
ہر حسین دل پہ تیرا نام ہے لکھا
جس کے دل پر حسین لکھا ہے
اس کے سر پر دعاے زہرا ہے
باندھ لیتا ہے وہ کفن سر پر
اور مرنے کی آرزو لے کر
تیری خدمت میں آ کے کہتا ہے
دیوانا تیرا دیوانا
میرا دل یا حسین تیرا دیوانا
شعزب و حبیب و جون زہیر اور سعید کی
مقتل سے آ رہی ہے صدا ہر شہید کی
دیوانہ تیرا دیوانہ
میرا دل یا حسین تیرا دیوانا
کربلا کربلا کربلا کربلا
زندہ باد ارض کربلا
کربلا ایسی عمارت کے سرور کے سوا
ایک دن میں کوئی تیار نہیں کر سکتا
حر کے ہاتھوں کو یہ کہتے ہوے کھولا شہ نے
اب تجھے کوی گرفتار نہیں کر سکتا
حر کے چہرے کی چمک روز دہم مت پوچھو
لشکرِ یزید سے نکل گیا یہ کہتا ہوا
صدا بادشاہی ہے بس حسین کی
کیوں نہ پھر صدا ہو ہر ملنگ اور فقیر کی
کربلا والے حسین شاہ جی
مولا ہمارے حسین شاہ جی
ہر دل یہ پکارے حسین شاہ جی
عجیب جنگ تھی وہ جنگ کربلا جس میں
جو لوگ قتل ہوے تھے وہ لوگ زندہ ہے
تم جو کہتے ہو کہ وہ جنگ تھی شہزادوں کی
ہم بتاتے ہے کہ دونوں کی حقیقت کیا تھی
لعنت اللّٰہ ادھر سلام اللّٰہ ادھر
وہ امیہ کا پسر یہ محمد کا پسر
وہ تھا اللّٰہ کہ کعبے کو جلانے والا
اور یہ خانۂ کعبہ کو بچانے والا
اس کے لشکر کو ملی ذلت و رسوائی مگر
اس کے لشکر میں ملا سب کو نشان حیدر
حسین جیت گےء اور یزید ہار گیا
آؤ زیشان و عرفان عزا
مل کے دیتے ہیں صدا
لعنت بر سجرہء قبیسہ
سلام بر شجرہء طیبہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.