Shaam ke bazar mein hai charaghan char su
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam
شام کے بازار میں ہے چراغاں چار سو
بے ردا بنت علی کر رہی ہے گفتگو
امتحاں کی پہلی منزل شام کا بازار ہے
اک رسن بارہ گلے اور عابد بیمار ہے
سر چھپائے کس طرح مصطفی کی آبرو
اشک تو کرب و بلا سے شام تک سب بہہ گئے
اب تلک تو شام کی تاریکی میں پردے رہ گئے
آنکھ سے آنسو نہیں اب کے برسے گا لہو
روشنی کچھ اس لئے چبھتی رہی سجاد کو
اس بریدہ سر کا جانے شام میں کیا حال ہو
آ گئی عباس کے جب سکینہ روبرو
کل در زہرا جلا کے جشن جو برپا ہوا
پھر سر کرب و بلا وہ جشن دہرایا گیا
ہے سر بازار بھی وہ ہی منظر ہو بہو
یوں تو اکبر اس چراغاں نے بہت تکلیف دی
مطمئن اس بات پر تھی ثانی زہرا بڑی
شب کے پردے میں چھپے گی نہ میری گفتگو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.