Bazar pe bazar guzarte rahe qaidi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam
بازار پہ بازار گزرتے رہے قیدی
ہر موڑ پہ جیتے رہے مرتے رہے قیدی
رسی نے انہیں ایک بنا رکھا تھا لیکن
تشہیر کی ضربت سے بکھرتے رہے قیدی
زخموں میں بدل دیتی تھی پیروں کے جو چھالے
مرہم بھی اسی خاک کو کرتے رہے قیدی
پانی تو میسر نہ تھا بس اشک تھے جن کو
عباس کے مشکیزے میں بھرتے رہے قیدی
گرنا اسے کہتے ہیں کہ اے لوگو اترنا
چلتے ہوئے ناقوں سے اترتے رہے قیدی
مل جائے نہ اس وقت کوئی جاننے والا
بازار میں اس بات سے ڈرتے رہے قیدی
توحید کو چلنے میں نہ دشواری ہو اکبر
خاروں پہ قدم اس لئے دھرتے رہے قیدی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.