Teeron Ke Musallay Par Woh Sajda e Shukrana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Hasan Sadiq, Mir Hasan Mir
تیروں کے مصلے پر وہ سجدہء شکرانہ
شبیر نے بتلایا اسلام پہ مر جانا
کچھ اس طرح لاش آئی اک رات کے بیاہے کی
افسوس کہ مادر نے بیٹے کو نہ پہچانا
سوچو تو مسلمانوں یہ بات کوئی کم ہے
احمد کی نواسی کا دربار میں آ جانا
حیدر کی شجاعت کا انداز نظر آیا
وہ شام غریباں میں زینب کا نہ گھبرانا
مولا کی وصیت تھی عباس دلاور کو
تلوار نہیں کھینچی آقا کا کہا مانا
اک تیر علی اصغر کی گردن میں لگا آکر
معصوم کا ہنس دینا اور موت کا گھبرانا
برچھی علی اکبر کے سینے سے نکل آئی
دیکھا نہ گیا شہ سے یوں دل کا نکل آنا
دربار میں لوگوں سے فضہ نے کہا رو کر
آتی ہے نبی زادی تعظیم کو جھک جانا
تاحشر رلائے گا مولا کی تیاری پر
دلدل کی رکابوں سے بیٹی کا لپٹ جانا
میت علی اصغر کی ہاتھوں پہ اٹھا بولے
اللہ تیرے آگے ہے شبیر کا نذرانہ
بھولے گا زمانے کو منظر نہ کبھی ناصر
معصوم کی میت کو شبیر کا دفنانا
ناصر کا یہ دعوی ہے بنتا ہے حسین ایسے
سانچے میں امامت کے قرآن کا ڈھل آنا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.