Shaam Ka Bazar Kuja Abid E Bimar Kuja
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Darbare Shaam recited by Mir Hasan Mir
شام کا بازار کجا عابد بیمار کجا زینب دلگیر کجا مجمع اغیار کجا
تیری امت کے زیور پہن کر دیکھو نانا چلی ہوں میں شام
جس زینب کو تم نے برادر کبھی نظریں اٹھا کر نہ دیکھا
ہاتھ رسی سے میرے بندھے ہیں اور سر پر نہیں میرے پردہ
کیسے کوفے میں جاؤں گی غازی جب بلوے میں آئے گا نام
میں دیتی کفن تجھ کو بھیا گر سر پہ ردا میرے ہوتی
گر ہوتے کھلے ہاتھ میرے تیرے زخموں کو ہاتھوں سے دھوتی
پابند رسن سر برہنہ دیکھو بھیا چلی ہوں میں شام
دل یہ کہتا ہے رو رو کے بھیا کاش عباس موجود ہوتا
کاٹ دیتا وہ اس کی زباں کو کوئی باغی اگر مجھ کو کہتا
دیکھتی پھر میں کس طرح لیتا کوئی زینب کا مجمعے میں نام
جیسے دربار پاس آ رہا ہے میرا دل ڈوبتا جا رہا ہے
ہاں میں تو گھر میں بھی کم بولتی تھی بھائی تم کو تو سب کچھ پتا ہے
کس طرح سے کرے گی بتا دے اک شرابی سے زینب کلام
ہائے نانا میں کیسے سناؤں دربار شقی کا وہ منظر
سب قاری و حافظ تھے بیٹھے اور سر پہ میرے نہ تھی چادر
ہائے نانا تیری بیٹیوں کو کیوں لائے ہیں سر ننگے عام
کہہ رہے ہیں یہ ہنس ہنس کے شامی آنے والے ہیں دربار باغی
جس نے اجداد مارے ہمارے آ رہی ہے یہاں اس کی بیٹی
کھولتا پانی پھینکو چھتوں سے پتھروں کا کرو انتظام
تیرے بچوں کو لے کر گئی میں شب بھر ساری روتی رہی ہوں
کبھی غازی کا لہجہ بدل کے میں پہرے بھی دیتی رہی ہوں
ان بیوہ بہو بیٹیوں سے کیوں کرتے نہیں ہو کلام
تیرے عابد پہ طاری غشی تھی اور کلثوم سہمی کھڑی تھی
کبھی دیکھوں میں زخمی سکینہ جس کے دامن میں آگ لگی تھی
کبھی روؤں میں اپنی ردا کو کبھی دیکھوں میں جلتے خیام
جب روتی تھی بالی سکینہ اور بابا کو اپنے بلاتی
میں دیتی تھی اس کو تسلی اور سینے پہ اپنے سلاتی
روٹھی زنداں میں معصوم بچی لے لے کے وہ بابا کا نام
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.