Maula Maa Umm ul Baneen Se Mat Kehna
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
پہنچے سرہانے بھائی کے جب شاہ کربلا
غازی نے اپنی آخری سانسوں میں دی صدا
مولا ماں ام البنین سے مت کہنا
شرمندہ سکینہ سے ہوں بہت میں پانی لے کر آ نہ سکا
ہر لاش پہ گر گر کے کہتے تھے کیا تم ہی علی کے بیٹے ہو
معلوم ہے کتنی مشکل میں خیموں سے یہاں تک پہنچے ہو
عباس سے ملنے کی خاطر زحمت جو اٹھائی ہے مولا
ماں نے جو سکھائے بچپن میں وہ یاد ہیں سب آداب مجھے
نزدیک کھڑے رہنا اس جا شبیر جہاں بیٹھے جا کے
اس وقت مگر خادم تیرا تعظیم کو تیری اٹھ نہ سکا
تھا چاروں جانب بکھرا ہوا قرآن حسن کا جنگل میں
پامال بدن قاسم کا ہوا گزری وہ قیامت مقتل میں
عباس کی زوجہ سے پہلے افسوس ہوئی بیوہ کبری
کس طرح کٹے بازو میرے مقتل میں بتا دینا بیشک
میں زیں سے زمیں پر کیسے گرا اماں کو سنا دینا بیشک
عباس کے گرنے سے لیکن زینب کے گری تھی سر سے ردا
یہ سوچ کے رن میں روتی ہے بازو سے لپٹ کر میری وفا
یہ بات گراں گزرے گی بہت اماں کی طبیعت پر آقا
تر ہاتھ ہوئے پانی سے میرے اور آپ کا اصغر پیاسا رہا
بابا سے کیا بچوں کو جدا کیا ظلم یہ ڈھایا لوگوں نے
مسلم کی لاش کو کوفے کی گلیوں میں پھرایا لوگوں نے
عباس کی نظروں کے آگے اجڑی تھی رقیہ کی دنیا
دو بھائی بچھڑتے تھے رن میں کیسا تھا قیامت کا منظر
عباس مجھے بھائی کہہ دو سرور نے کہا جب یہ رو کر
شبیر کو بھائی کہہ تو دیا لیکن تھی تکلم لب پہ صدا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.