Kamaal-e-Ishq Ki Meraj Yun Nibhate Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor
کمال عشق کی معراج یوں نبھاتے ہیں
حسین زین سے سوئے زمین آتے ہیں
بس اب قریب ہے وہ وقت، شام ہوتی ہے
ہے کچھ ہی دیر، تری زحمت تمام ہوتی ہے
یہ راہوار کے کانوں میں کہتے جاتے ہیں
تڑپ رہی ہے زمیں، بحر و بر پہ لرزہ ہے
کل انبیاء کے لبوں پر صدائے گریہ ہے
ملائکہ سر افلاک خاک اڑاتے ہیں
قریب خیمہ بہن دیکھتی ہے تھامے جگر
حسین پہ جو برستے ہیں تیر اور تبر
لعین اس کے کلیجے پہ حشر ڈھاتے ہیں
نظر اٹھا کے جو مقتل کو دیکھتے ہیں امام
کہاں وہ حلقہ احباب اور کہاں یہ مقام
تھے کیسے کیسے دلاور جو یاد آتے ہیں
ہے کس شقی میں یہ ہمت، رضائے شہ کے بنا
علی کے لال کے سر کو کرے بدن سے جدا
مگر وہ جرات قاتل کو آزماتے ہیں
ہزار تیر ہیں سینے میں جابجا پیوست
ادائے سجدہ آخر میں ہے بنی دقت
بدن میں اپنے ہی تیروں کو شہ دھنساتے ہیں
گواہ ہیں ناحیہ کے زیدی ہائے وہ جملے
امام عصر تڑپتے ہیں شاہ کے غم میں
یہ وقت سوچ کے وہ اشک خوں بہاتے ہیں
ہے بندگی کو بھی حیرت یہ دیکھ کے منظر
ادھر جو شمر چلاتا ہے تیغ گردن پر
ادھر یہ شکر خداوند لب پہ لاتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.