Aye Ghareeb ul Ghuraba Aye Mere Bhai Raza
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Raza (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اے غریب الغربا اے میرے بھائی رضا
رو کے معصومہ قم، قم سے دیتی ہیں صدا
دیکھنے آئی ہوں میں قم سے صورت تیری
اے غریب الغربا دیکھ غربت میری
کوئی بتلاتا نہیں مجھ کو مشہد کا پتا
تیرا دیدار نہیں بھائی قسمت میں میری
دے ہواؤں کو ذرا حکم اے میرے علی
سن لوں آواز تیری دل بہل جائے میرا
جب سے پہنچی ہوں میں قم دل ہے قابو میں کہاں
غمزدہ آئے نظر شہر کے پیر و جواں
دیکھ کر کالے علم دل دہلتا ہے میرا
مجھ پہ جو بیت گئے وہ الم کچھ بھی نہیں
سامنے زینب کے میرے غم کچھ بھی نہیں
میں نہ بازار گئی نہ چھنی میری ردا
کس جگہ خار چبھے کس جگہ تھک کے گری
پوچھو چھالوں سے ذرا کیسے میلوں میں چلی
زخم پیروں کے تمہیں غم سنائیں گے میرا
ہوں یتیمہ لیکن وہ یتیمہ تو نہیں
قیدی بابا کی قسم میں سکینہ تو نہیں
جس کے گوہر بھی چھنے ہائے جس کا دامن بھی جلا
قم سے مشہد جو گیا زائر مولا رضا
اے تکلم وہ یہی لے کے پیغام چلا
راستہ تیری بہن اب بھی تکتی ہے تیرا
ساتھ جائے گا میرے یہ غم تنہائی
تم بھی اکبر کی طرح نہیں لوٹے بھائی
روز صغری کی طرح میں جلاتی ہوں دیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.