Hum zinda hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Sachay Bhai
ہم زندہ ہیں ماتمِ شبیر کے لیے
دورِ اُمیہ میں یہ کسکا خون تھا جو کہ بہتا تھا
اہلِ وفا کو اہلِ اعزا کو دیواروں میں چُنا گیا
پھر کبھی ایک صدائے پیہم آتی تھی دیواروں سے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
ہر جابر سے ہر ظالم سے ہم تھے جو ٹکراتے تھے
اس ماتم کی خاطر ہم نے گھر کے گھر قُربان کیے
غالب آخر حق آیا باطل نے گُھٹنے ٹیک دیئے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
طوفانوں کی زد پہ ہمیشہ ہم نے دیئے جلائے ہیں
اتنے ضدی سر کش حاسد ہم کو مٹانے آئے ہیں
دیوانوں کے خواب ادھورے اب تک پورے ہو نہ سکے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
اہلِ بیت کے در کو چھوڑیں اپنا یہ کردار نہیں
ہر انسان کو رہبر کہہ دیں اپنے یہ اطوار نہیں
کل بھی جو اپنا مولا تھا آج بھی اپنا مولا ہے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
کچھ دیوانے ہیں ایسے بھی کرب و بلا کو بھول گئے
اللہ اللہ یاد رکھا اور آلِ عبا کو بھول گئے
راہِ وفا سے ہٹنے والو تم کو کون یہ سمجھائے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
سر دے کر گھر بار لُٹا کر ہم نے یہ غم پایا ہے
اس کی خاطر جانے کتنا اپنا خون بہایا ہے
جو خون سرِ تاریخ بہا اُس خون کی خاطر بول اُٹھے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
جذ بہِ میثم لے کر ہم نے نفرت کا رُخ موڑ دیا
طلم و ستم کی زنجیروں کو اپنے عمل سے توڑ دیا
نام و نشاں تک مٹ جاتے ہیں ہم کو مٹانے والوں کے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
نوحہ گروں اور سینہ زنوں کو زینب دیتی ہے یہ دُعا
گھر نہ اُجڑے ہائے کسی کا جیسے میرا گھر اُجڑا
بس ایک ارمان ہے زینب کا قائم یہ غم صدا رہے
ہم زندہ ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.