Ik din mein Fatima ka bhara ghar ujar gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Asghar Khan
قاسم کے کیا شگن ہوئے ہائے لب فرات
ہر رسم خود نبھاتی رہی موت ساتھ ساتھ
ٹاپوں کی زد میں آگئی فروہ کی کائنات
چھوٹی سی اک ردا میں سمائی تھی پوری ذات
مہندی تھی یا لہو تھا تن پاش پاش پر
گل کا گمان ہوتا تھا قاسم کی لاش پر
گلشن کے گل تو گل تھے کلی بھی نہ بچ سکی
اندھیر مچ گیا تھا اندھیری تھی زندگی
کڑکی کماں تو خیموں میں مادر سمجھ گئی
اپنے ہی خوں سے بجھ گئی اصغر کی تشنگی
دنیا میں کچھ کہے بنا خاموش ہو گیا
آنکھیں کھلی ہی رہ گئیں بے شیر سو گیا
ہائے وہ شام شام غریباں کہیں جسے
فرقت کا اک پیام تھا صغری کے واسطے
صغری تو دور خط سے بھی اکبر نہ مل سکے
دیکھی ہے موت نے یہ اذیت قریب سے
اکبر کی لاش سے خط صغری تھا اتنی دور
قبر نبی سے تربت زہرا ہے جتنی دور
اکبر جناب ثانی زہرا کی تھی یہ بات
خنجر سے وار کرتا تھا شہ پہ وہ بد صفات
باندھے ہوئے حصار تھی میں تو نظر کے ساتھ
رکھے ہوئے تھے حلق پہ اماں نے اپنے ہاتھ
خنجر کے راستے میں جو شے آئی کٹ گئی
شبیر کا گلا میری بینائی کٹ گئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.