Hum hussaini hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Nadeem Sarwar
حسین حسین حسین
ہم حسینی ہیں دنیا میں پھیلے ہوئے
سختیاں کربلا کی ہیں جھیلے ہوئے
حسین حسین حسین
ہم پہ سایہ وفا اور وفادار کا
دھوپ میں جیسے سایہ ہو دیوار کا
سر پہ پرچم ہے شہ کے علمدار کا
ہر قدم بڑھ رہے ہیں یہ کہتے ہوئے
حسین حسین حسین
ہے یہ دھرتی اگر لال شہباز کی
لال شہباز کے بھی ولی ہیں علی
سرفرازی اسی در سے سب کو ملی
وجد میں کیوں نہ ہر ایک قلندر کہے
حسین حسین حسین
خواجہ اجمیر ہو یا نظام و فرید
شہ کے دشمن کو کہتے ہیں یہ بھی یزید
شہ کا غم ان کے مسلک میں حق کی نوید
کتنے اعزاز ان کو یہ کہکر ملے
حسین حسین حسین
حق پرستی کے دنیا میں حامی رہو
گر ہو مظلوم ظالم کو بڑھنے نہ دو
زیر خنجر حسینی صدا وہ سنو
آج بھی جس سے ظالم ہیں دھلے ہوئے
حسین حسین حسین
مرد وہ ہے جو وعدے کو پورا کرے
زیر خنجر بھی حق بات کہتا رہے
سر رہے یا نہ رہے گھر لٹے یا بچے
جز تیرے اور کس میں ہے یہ حوصلہ
حسین حسین حسین
آندھیاں ہم کو روکے یہ ممکن نہیں
منہ غم شہ سے موڑیں یہ ممکن نہیں
رسم غم کیسے چھوڑیں یہ ممکن نہیں
ہم تو روز اذل سے ہی تیرے ہوے
حسین حسین حسین
کل ایمان مشکل کشا ہیں علی
کہ رہے ہیں نصیری خدا ہیں علی
یہ خدا جانتا ہے کہ کیا ہیں علی
سارے اوصاف حیدر کے تجھ میں ملے
حسین حسین حسین
خیبر و خندق و نہروان و جمل
ضرب حیدر کا کوئی نہیں ہے بدل
اے زمانے کبھی راہ حیدر پہ چل
تیرا دل بھی ملے گا یہ کہتے ہوئے
حسین حسین حسین
ہم عزادار ہیں کتنے خد دار ہیں
دے کے خوشیاں جو غم کے طلبگار ہیں
شادی و غم میں سرور کے غم خوار ہیں
ایک ہی نام ہے لب کبھی جو ہلے
حسین حسین حسین
آشک روکے اگر ہم سے پھٹ جائے دل
گر نہ ماتم کرے ہم تو کٹ جاے دل
اپنے مرکز سے محور سے ہٹ جائے دل
تیری بزم عزا گر نہ ہم کو ملے
حسین حسین حسین
ہاے وہ روز عاشورا وہ شہ کی بہن
دیکھتی تھی اجڑتا جو اپنا چمن
خون اکبر سے گل رنگ تھا پیراہن
دے رہی تھی صدا اپنا سر پیٹ کے
حسین حسین حسین
تیری مادر کا شب کو جنازہ اٹھا
تیری ہمشیر بلوے میں ہے بے ردا
ہاے تجھکو کفن بھی نہیں مل سکا
زخم ابتک ہمارے نہیں وہ بھرے
حسین حسین حسین
ایک ننھی سی تربت بنای تھی جب
بیکسی پرسہ دینے کو آی تھی جب
لاشے اصغر زمیں میں چھپای تھی جب
دامن صبر چھوٹا نہ کیوں ہاتھ سے
حسین حسین حسین
کوئی پوچھے تو عابد کے دل سے زرا
طے سفر شام و کوفہ کا کیسے کیا
بیٹیاں فاطمہ کی تھیں جب بے ردا
چلنے دیتے نہ تھے پاؤں کے آبلے
حسین حسین حسین
اے ریحان اعظمی فکر ہو بس یہی
ماتم شہ میں ہونے نہ پائے کمی
ہے یہی زندگی ہے یہی بندگی
میرے اجداد بھی مجھ سے یہی کہ گےء
حسین حسین حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.