Veeran Gharon Ki Veerani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Mir Hasan Mir
ویران گھروں کی ویرانی زینب کو اور رلائے
چالیس گھروں میں جا جا کر کس کس کا سوگ منائے
اک آنگن میں اصغر کے لئے جلتی ہے دھوپ میں دکھیا
گھر بھر کی نظر ہے سورج پر کب وقت غروب کا ہوگا
اور مادر کو یہ فکر ہے کہ یہ سورج ڈوب نہ جائے
اک آنگن میں ام سلمی صغری کے آنسو پونچھے
دل پر اپنے پتھر رکھ کر بی بی سے آ کر بولے
صغری اٹھ جا ان رستوں سے اب کوئی نہیں جو آئے
اک آنگن میں فضہ بیٹھی ہر لمحہ یہی سوچے
جا کر زہرا کی تربت پر کیا بات کنیز یہ بولے
کیسے زینب دربار گئی کیا زہرا کو بتلائے
اک آنگن میں بیمار پسر آنکھوں سے خون بہائے
بازاروں کا ہر اک منظر اشکوں میں ڈھلتا جائے
سجاد بہت صابر ہے مگر اب کتنا صبر دکھائے
اک آنگن میں عبداللہ اور زینب بیٹھے ہیں تنہا
وہ عون و محمد کے غم میں اک دوسرے کو دیں پرسہ
دے داد پدر ہر حملے پر جب مادر جنگ سنائے
اک آنگن میں بیٹھی ہے ماں یسین کا سورہ کھولے
وہ ذکر نبی کے لفظوں میں ہمشکل نبی کو ڈھونڈے
روضے پہ نبی کے آ جائے جب یاد اکبر کی آئے
کل تک اکبر اک زہرا تھیں جو بین کیا کرتی تھیں
بابا کی جدائی کے غم میں وہ آہیں بھرا کرتی تھیں
اور آج بنی ہاشم کے مکاں سب بیت الحزن ہیں ہائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.