Beemar ki aankhein hain Akbar teri raahon par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sughra (s.a) recited by Hasan Sadiq
بیمار کی آنکھیں ہیں اکبر تیری راہوں پر
دیواریں بھی روتی ہیں صغری کی کراہوں پر
صغری نے کہا مجھ کو اک بار جو مل جائیں
سر اپنا میں رکھ دوں گی بھیا تیرے پاؤں پر
کیوں بھول گئے بھیا صغری کی خطا کیا ہے
آواز نہیں دیتے کیوں میری صداؤں پر
وہ خود ہی سمجھ لے گی ہے مارا گیا بھائی
دیکھے گی نشاں جس دم زینب تیری بانہوں پر
دیکھا کہ لہو میں ہے ڈوبا ہوا سب کنبہ
کیا خواب اتر آیا صغری کی نگاہوں پر
پیاسے رہے جب اکبر برسی نہ گھٹا کوئی
افسوس کرے دنیا اب ایسی گھٹاؤں پر
ہے دھوپ میں جس دن سے لاشہ علی اکبر کا
ماں اشک گراتی ہے ہر پیڑ کی چھاؤں پر
ریحان مجھے کیا ہو اب خوف قیامت کا
جب میرا عقیدہ ہے زہرا کی عطاؤں پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.