Taboot Uth Raha Hai Mola Ali Naqi Ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Naqi (a.s) recited by Mir Hasan Mir
تابوت اٹھ رہا ہے مولا علی نقی کا
غربت میں مار ڈالا ہائے بابا عسکری کا
کچھ اس لیے بھی امت دشمن ہوئی نقی کی
بیٹا یہ فاطمہ کا ہمنام ہے علی کا
سانسیں اکھڑ رہی تھیں آنکھوں سے خوں تھا جاری
گھل کر تڑپ نہ پایا لاشہ بھی اس دکھی کا
سوکھے ہوئے کنویں کا قیدی ہی جانتا ہے
عالم تھا کربلا میں کیسا وہ تشنگی کا
اپنے ہی گھر میں آخر تربت بنا کے سویا
مدت سے دربدر تھا فرزند یہ نبی کا
صدیوں کے بعد بھی ہے اکبر دلوں میں نفرت
یونہی مزار اک دن ڈھایا گیا نقی کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.