Kaisa hai sitam maula to kaisa hai rehman
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
کیسا ہے ستم مولا تو کیسا ہے رحمان
بن باپ کی بچی ہے اور شام کا زندان
آرام سے سوتی تھی جو باپ کے سینے پر
زنداں میں ملا اس کو اب خاک کا بستر
رخسار بھی زخمی ہیں تر خوں سے ہوئے کان
جس روز سے بچھڑی ہے بابا سے چچا سے
معصومہ نے رونے پر کھائے ہیں طمانچے
رسی کی اذیت سے دم گھٹتا ہے ہر آن
زنداں کا کوئی گوشہ ہوتا جو ہوادار
گھٹ گھٹ کے اندھیرے میں وہ مرتی نہ زینہار
زنداں سے رہائی کا مر کر ہوا سامان
زنداں کا اندھیرا ہے اور یاس کا پہرا
اس یاس کے عالم میں عباس کا چہرا
یاد آتا ہے رہ رہ کے وہ ہوتی ہے بے جان
کہتی تھی پھوپھی اماں کب ہوگی رہائی
کیا کوئی خبر میرے عمو کی بھی آئی
لے جائیں گے زنداں سے کب مجھ کو چچا جان
سر پہ تھی یتیمہ کے صحرا کی پڑی خاک
اور جسم کے زخموں سے چپکی ہوئی پوشاک
جو مر گئی زنداں میں اس بچی کے قربان
کیوں اماں کی گودی میں اصغر نہیں میرا
کیا لوٹا گیا اماں معصوم کا جھولا
لا دو میرے بھیا کو مجھ پر کرو احسان
رو رو کے وہ کہتی تھی ہر وقت پھوپھی سے
جاتے ہیں کہاں اڑ کے سر شام پرندے
ہم بھی کبھی گھر جائیں کیا اس کا ہے امکان
اب بھی در زنداں سے آتی ہیں صدائیں
بابا مجھے زنداں کی مصیبت سے بچائیں
بچی کی صدا کیا ہے نوحہ تیرا ریحان
میں واری گئی اماں بابا سے ملا دو
جس سینے پہ سوتی تھی پھر اس پہ سلا دو
جینے کی نہیں ہوں میں لمحوں کی ہوں مہمان
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.