Yeh Shaam-e-Ghariban Hai Darya Ki Rawani Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
یہ شام غریباں ہے دریا کی روانی ہے
پیاسے نہ رہے باقی پھر کس لئے پانی ہے
اصغر تیرے لاشے کو ماں بن کے زمیں رکھے
اجڑی ہوئی گودی کی معصوم نشانی ہے
خوں کیسے رکے لوگو اکبر کا جوانی میں
ہے خون نیا لیکن برچھی تو پرانی ہے
یہ تو مجھے لگتا ہے لاشہ کسی دولہا کا
پٹکا جو کمر میں ہے رنگ اس کا تو دھانی ہے
معلوم نہ تھا شہ کو خود اپنے ہی ہاتھوں سے
شبر کی نشانی بھی مٹی میں ملانی ہے
شبیر کو خنجر سے زیادہ یہ اذیت ہے
تکلیف جو زنداں میں بچی کو اٹھانی ہے
زینب نے کہا ٹھہرو میں دشت میں آتی ہوں
بھیا تمہیں اکبر کی اب لاش اٹھانی ہے
ہر غم کو بھلا دیں گے ہر یاد مٹا دیں گے
زہرا تیرے بچوں کی بس یاد منانی ہے
ریحان کی سرور کی پہچان ہے جنت میں
ان دونوں کے سینے پہ ماتم کی نشانی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.