Meri To Aas Mere Seene Mein Mar Jati Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
میری تو آس میرے سینے میں مر جاتی ہے
دیکھ اس قید سے کب ملتی ہے رخصت اماں
اب تو دن میں بھی اجالوں سے ملاقات نہیں
جو تڑپ کر نہ گزاری ہو کوئی رات نہیں
کیا کروں جی کے چچا میرے، میرے پاس نہیں
دو دعا ختم ہو اب جلد مصیبت اماں
بے بسی کیسی ہے یہ کیسی ہے غربت اماں
کیا بنے گی اسی زندان میں تربت اماں
کہنا بابا سے خدا حافظ و ناصر بابا
لو کہ اب ہوتی ہوں زندان سے رخصت اماں
تم انہی کپڑوں کو اے اماں بنا دینا کفن
ہو نہیں سکتے یہ تبدیل کہ زخمی ہے بدن
بابا آ جائیں تو کہہ دینا انہیں میرا سخن
اپنے بابا کی نہ کر پائی میں خدمت اماں
اب سر شام پرندوں پہ نظر جاتی ہے
ایسی مخلوق ہے اڑتے ہوئے گھر جاتی ہے
میری تو آس میرے سینے میں مر جاتی ہے
دیکھ اس قید سے کب ملتی ہے رخصت اماں
ہو سکے تو علی اصغر کا وہ جھولا لا دو
اماں بھیا کا میرے مجھ کو شلوکا لا دو
وہ جو تعویز تھا منت کا خدارا لا دو
مجھ کو پھر مرنے میں ہووے گی نہ دقت اماں
میرے بابا کا وہ سینہ میری اماں لا دو
جو تھا جینے کا قرینہ میری اماں لا دو
جو تھا آرام سکینہ میری اماں لا دو
اس سے پہلے کہ ہو اب موت سے قربت اماں
لب سرور سے جو ریحان کا نوحہ آیا
شام کے زنداں سے آنے لگی آواز بکا
جیسے بچی کا کوئی زخم ہوا پھر تازہ
بولی کیوں اہل عزا کرتے ہیں رقت اماں
ٹھہر جاؤ کہ خدا حافظ و ناصر اماں
ساتھ دیتی نہیں اب بالی سکینہ کی زباں
کہہ دو ظالم سے کہ اب ختم ہوئی آہ و فغاں
آہ کرنے کی بھی باقی نہیں طاقت اماں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.