Bhagdar machi hai shamiyon mein kaun jaye samne
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Sharafat Ali
بھگدڑ مچی ہے شامیوں میں کون جائے سامنے؟
عباس ہے، عباس ہے، عباس ہے میدان میں
ہم کیسے جائیں سامنے یہ شور ہے میدان میں
عباس ہے عباس ہے عباس ہے میدان میں
کتنا اعلی ہے نسب میرا سنو اے شامیو
جد میرے عمران میں پسر علی ہوں شامیو
آسماں کو بول دوں تو برق گرے میدان میں
دیکھ کے تیور علی کے شیر کا فرات پر
اک پہ اک گرنے لگے ظالم سبھی فرات پر
جنگ کا یوں نقشہ بدل کے رکھ دیا میدان میں
باپ کی ساری شجاعت مجھ میں سمٹ آئی سنو
التجا پانی کی تم سے میری رسوائی سنو
قبضہ تمہارا یا ہمارا دیکھ لو میدان میں
سادات کی سقائی کا مجھ کو شرف بخشا گیا
مشک دی ہے تیغ لے کر جنگ سے روکا گیا
دین کا دے کر علم بھیجا گیا میدان میں
حکم شبیری سے ہے مجبور عباس جری
پاس ہے دریا مگر ہے دور عباس جری
سن کے صدائے العطش رنجور ہوں میدان میں
میرے چہرے پر نظر ڈالو ذرا اے شامیو
یاد آئے گی تمہیں صفین پھر سے شامیو
کانپ اٹھے گا شجر جیون کا پھر میدان میں
بانیء آل جفا حسرت میرے دل کی سنو
کاٹ کر سر روند دو لاش جری عباس کو
لاشہء شبیر کو مت روندنا میدان میں
ہاں شہادت کے وہ محضر میں میرا بھی نام ہے
ہاں میرے بازو کٹیں گے یہ مجھے الہام ہے
یہ علم مہکے گا میرے خون سے میدان میں
کہہ رہا ہے تجھ سے زیدی تھام کر ترا علم
ہے شرافت کی صدا قائم رہے تیرا کرم
آج بھی زندہ ہے تیری وہ صدا میدان میں
سیدہ کی آل سے چادر نہیں تم چھیننا
کان سے گوہر سکینہ کے نہیں تم چھیننا
خیمہء سادات کو نہ لوٹنا میدان میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.