Para Hai Pul Pe Janaza Raza Ke Baba Ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Syed Zille Raza Zaidi
پڑا ہے پل پہ جنازہ رضا کے بابا کا
ہوائیں پڑھتی ہیں نوحہ رضا کے بابا کا
پڑی نہیں تن لاغر پہ گرچہ شمشیریں
بدن کا گوشت مگر کھا گئیں ہیں زنجیریں
ہوا ہے حال کچھ ایسا رضا کے بابا کا
بنی ستم کا نشانہ جو لاش قیدی کی
صدا بقیعے سے آتی تھی ایک بی بی کی
نہ کھینچو گلیوں میں لاشہ رضا کے بابا کا
جو لوگ غیر ہیں وہ سب بلائے جاتے ہیں
پرائے دیس کے مزدور لائے جاتے ہیں
نہیں ہے کوئی بھی اپنا رضا کے بابا کا
نبی کی آل پہ یہ ظلم ہیں اسیری کے
بدن سے خوں نہیں رکتا غریب قیدی کے
کفن ہے خون میں ڈوبا رضا کے بابا کا
مثال ایسی کوئی قید کی سنی ہی نہیں
کہ جاں نکل گئی زنجیر پر کھلی نہیں
ہے لاشہ لوہے میں جکڑا رضا کے بابا کا
قدم قدم پہ ہی مزدور روتے جاتے ہیں
وہ خستگی ہے کہ رک رک کہ لاش اٹھاتے ہیں
بدن کچھ ایسے ہے بکھرا رضا کے بابا کا
غم امام میں ثقلین ہے بپا گریہ
سنا کے نوحہ یہ مجلس میں آج ظل رضا
نبی کو دیتا ہے پرسہ رضا کے بابا کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.