Qaid Mein Chaudah Baras Zulm O Sitam Dhaya Gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Shahid Baltistani, Dervish
قید میں چودہ برس ظلم و ستم ڈھایا گیا
کاظم مضطر کو تڑپایا گیا
پھر نشان عصمت سادات مٹوایا گیا
قید کر کے لے کے آئے کاظم نوشاد کو
پھر عزادار جناب سید سجاد کو
پاؤں میں بیڑی گلے میں طوق پہنایا گیا
یاد عابد کی اسیری آگئی روتے رہے
پیش حاکم پا برہنہ ہائے پیشی کے لیے
جس گھڑی سرکار کو دربار میں لایا گیا
چار جانب گھپ اندھیرا تھا کے جیسے قبر ہو
قید خانہ ایسا لگتا تھا کے جیسے قبر ہو
جیتے جی اس قبر میں مولا کو ڈلوایا گیا
قید خانے کی اذیت کم تھی کیا اے ظالمو
کیوں نبی کی آل سے اتنی عداوت ہے کہو
ڈھا لیے سب ظلم تو پھر زہر دلوایا گیا
جس طرح زینب ہوئی تھی اپنے بابا سے جدا
بے پدر معصومہ قم بھی ہوئی وا غربتا
بے خطا جیسے علی کو قتل کروایا گیا
فاطمہ صغری کو جیسے یاد کرتے تھے حسین
اس طرح ملتا نہ تھا بیٹی کے بن کاظم کو چین
قید خانے کو بھی بیت الحزن بنوایا گیا
چند مزدوروں نے لاشے کو اٹھایا آپ کے
اور جنازہ پل پے لا کے رکھ دیا بغداد کے
ہائے زنجیروں میں بھی میت کو بندھوایا گیا
غل ہوا کونین میں مارا گیا اک بے خطا
ہوگئے ہیں بے پدر مولا رضا، یاسر رضا
ہائے معصومہ کے سر سے باپ کا سایہ گیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.