Logo mere Hussain ko dekha hai tum ne kya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Zuljana recited by Mir Hasan Mir
لوگو میرے حسین کو دیکھا ہے تم نے کیا
آ کر یہی جلوس میں کہتا ہے ذوالجناح
سیدانیاں تڑپتی تھیں محشر کی تھی گھڑی
ہائے ہے یاد مجھ کو آخری رخصت حسین کی
زینب نے مجھ کو سونپا تھا بیٹا بتول کا
آتی ہے اس کے خون کی خوشبو جو بار بار
محسوس ہو رہا ہے یہیں ہے میرا سوار
آیا ہے کیا جلوس میں مظلوم کربلا
پیاسے کا میرے زیں پہ سنبھلنا محال تھا
ہائے برچھی جگر میں تیر بدن میں یہ حال تھا
اترا تھا اک نشیب میں زہرا کا لاڈلا
دیکھا جو میں نے پیاسے کی آنکھوں میں انتظار
قدموں کو چوم چوم کے کہتا تھا بار بار
صغری کے پاس لے چلوں گر حکم ہو تیار
زخموں سے بے وطن کے بہا خون اس قدر
ہائے میری جبیں پہ باگ پہ زیں پر رکاب پر
مظلوم کربلا کا لہو ہے لگا ہوا
مدت سے ہے تلاش غریب الدیار کی
ہائے پہچان ایک یہ بھی ہے میرے سوار کی
چہرے پہ خون اصغر بے شیر ہے ملا
گردن ہے اس کی یوں بھی تکلم جھکی ہوئی
اپنا سوار ڈھونڈ رہا ہے یہ آج بھی
بچھڑا ہے یوں حسین سے اب تک نہیں ملا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.