Aye baad e saba ja ke yeh ammu ko batana pyasi hai Sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Farhan Ali Waris
اے باد صبا جا کے یہ عمو کو بتانا پیاسی ہے سکینہ
پانی کی طلب مجھ کو کھلاتی رہی ٹھوکر
کہتا تھا لعیں دوں گا میں فوجوں کو پلا کر
جب شمر لعیں کر چکا سیراب یہ لشکر
دکھلا کے مجھے پھینک دیا پانی زمیں پر
تب سمجھی میں کیا ہوتا ہے امید دلانا پیاسی ہے سکینہ
اس چھوٹے سے سن میں یہ ستم میں نے اٹھائے
اللہ کسی کو نہ یتیم ایسا بنائے
خود اپنے لہو میں کوئی بچی نہ نہائے
میں تم کو بلاتی رہی تم بھی تو نہ آئے
میں بن گئی بعد عصر لعینوں کا نشانہ پیاسی ہے سکینہ
اک رسی میں ہم سب کے گلے باندھ کے اعدا
کرتے ہوئے تشہیر چلے جانب کوفہ
اور اس پہ مصیبت یہ تھی قد چھوٹا تھا میرا
اٹھتی تھی جو پھپھیاں تو گلا کھنچتا تھا میرا
گردن کا میرے زخم چچا دیکھنے آنا پیاسی ہے سکینہ
اک جام ہوا شام غریباں میں میسر
وہ کوزہ میں رکھ آئی تھی اصغر کی لحد پر
تھا مجھ سے بھی چھوٹا میرا بھیا میرا دلبر
شرمندہ میں ہو جاتی چچا پیاس بجھا کر
اب اپنے ہی ہاتھوں سے میری پیاس بجھانا پیاسی ہے سکینہ
گھر لوٹ کے جاتے ہیں ہر اک شام پرندے
قسمت میں لکھے ہیں میری زنداں کے اندھیرے
کب تک میں جیوں گی یونہی اشکوں کے سہارے
لگتا ہے کہ مر جاؤں گی اب دور وطن سے
ہو گا نہ میسر مجھے گھر لوٹ کے جانا پیاسی ہے سکینہ
جس روز سے اصغر کو ملا بابا کا سینہ
اس روز سے عمو نہیں سو پائی سکینہ
اس حال میں جاؤں گی میں کس طرح مدینہ
آ جائے مجھے موت ہے کس کام کا جینا
جاگی ہوں بہت آ کے چچا مجھ کو سلانا پیاسی ہے سکینہ
میں بھول نہیں سکتا سکینہ میری بچی
مشکیزہ علم میں ہے لگا دیکھ لے اب بھی
انور یہ صدا پرچم عباس سے آئی
کاٹے گئے بازو میرے مجبور تھا بی بی
پرچم کا میرے کام ہے دنیا کو بتانا پیاسی ہے سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.