Roshni Yun Bhi Mere Ghar Mein Hua Karti Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup
روشنی یوں بھی مرے گھر میں ہوا کرتی ہے
خون کی بوند سے قندیل جلا کرتی ہے
تو نے پوچھا نہ کبھی شعلہء نمناک کا حال
آتشیں اشک میں کیوں آنکھ رہا کرتی ہے؟
ظلمت شب سے ابھرتی ہوئی چیخیں تو سنو
یہ وہ آواز ہے جو حشر بپا کرتی ہے
جب گزرتا ہوں محبت کے شبستانوں سے
اس کی خوشبو مجھے پہچان لیا کرتی ہے
چوٹ ہے دل کی مگر آنکھ کو روتے دیکھا
کون مجرم ہے سزا کس کو ملا کرتی ہے
اپنے دروازے پہ تختی تو کوئی نصب کرو
گھر کی دیوار مکینوں سے گلہ کرتی ہے
اچھے وقتوں پہ فریدی نہ کبھی ناز کرو
آزمائش کبھی یوں بھی تو ہوا کرتی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.