Ibn e Zahra Ghaib Mein Parh Rahay Hain Marsiya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Qamar Baltistani
ابن زہرا غیب میں پڑھ رہے ہیں مرثیہ اس سکینہ پر سلام
جس کی چھینی بالیاں جس کا دامن بھی جلا اس سکینہ پر سلام
بعد عاشورا سبھی بچے تھے گودی میں مگر
ایک تھی ننھی سکینہ جس کو باندھا اونٹ پر
جو بدن زخمی ہوا خوں بھرا گرتا ہوا اس سکینہ پر سلام
مشک دکھلا کر جسے ہائے خوب ترسایا گیا
پانی مانگا اس نے جب بھی ہر گھڑی مارا گیا
کربلا سے شام تک خشک تھا جس کا گلا اس سکینہ پر سلام
چار سالہ سن میں کیسے یہ ضعیفہ ہوگئی
ظلم اتنا ہو رہا تھا کہ کمر جھکنے لگی
ظلم اتنا دیکھ کر کہہ اٹھی خود فاطمہ اس سکینہ پر سلام
بال کھینچے، مارے درے بعد بابا کے جسے
اس قدر مارے طمانچے گال نیلے ہو گئے
بابا کہتی تھی کبھی اور کہتی تھی چچا اس سکینہ پر سلام
بھائیوں کے آسرے پر وہ چلی تھی کربلا
کیا مقدر تھا کہ اک بھائی کو نیزہ لگ گیا
اک کا بستر جل گیا اک کا جھولا جل گیا اس سکینہ پر سلام
ایک رسی میں بندھا تھا اہل غم کا قافلہ
ہائے چلتی کس طرح سے جس کا جکڑا تھا گلا
اپنے پنجوں پر سفر جس نے سارا طے کیا اس سکینہ پر سلام
روضہ شبیر سے آئی صدائے مرحبا
روضہ عباس سے عباس دیتے تھے دعا
جب یہ فاضل نے لکھا جب قمر نے یہ پڑھا اس سکینہ پر سلام
آج بھی رونے کی آتی ہے صدا زندان سے
اب تلک زخمی بدن ہے خوں ہے جاری کان سے
کہہ رہی ہے العجل آج بھی جو باخدا اس سکینہ پر سلام
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.