Sab jhoot tha jo chashma e haiwan ke paas tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup
سب جھوٹ تھا جو چشمہ حیواں کے پاس تھا
آب بقا فقط لب جاناں کے پاس تھا
جیتے رہے ہم آپ سے ملنے کی آس پر
کیا حسن ایک جھوٹے سے پیماں کے پاس تھا
مظلوم پنچھیوں کی تواضع کے واسطے
اک دلفریب باغ بھی زنداں کے پاس تھا
اک دن تو آدمی کو وہ دیتا کھلی مجال
پر اتنا حوصلہ کہاں یزداں کے پاس تھا
پھر بھی ادب کی حد سے میں آگے نہ بڑھ سکا
گو میرا ہاتھ اس کے گریباں کے پاس تھا
کیا بے نظیر چیز ہوئی کس جگہ نصیب
دل کا قرار زلف پریشاں کے پاس تھا
تخریب کائنات کا الزام کس کو دیں
دنیا کا انتظام تو انساں کے پاس تھا
دنیا کی ساری حشمت و دولت کے باوجود
تھا اک خدا کا نام جو انساں کے پاس تھا
حکام نے وہاں سے بھی مجھ کو اٹھا دیا
بیٹھا ہوا میں یار کے درباں کے پاس تھا
اب بھی گلا کرے مرا مہماں تو کیا کہوں
میرا تمام گھر مرے مہماں کے پاس تھا
جو پھول تھا وہ میری پہنچ میں نہ تھا عدم
جو خار تھا وہ میری رگ جاں کے پاس تھا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.