Kisi mein dum nahi itna sar e shehar e sitam niklay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General
کسی میں دم نہیں اتنا سر شہر ستم نکلے
ضمیروں کی صدا پر بھی نہ تم نکلے نہ ہم نکلے
کرم کی ایک یہ صورت بھی ہو سکتی ہے مقتل میں
تری تلوار بھی چلتی رہے اور خوں بھی کم نکلے
نہ میں واعظ نہ میں زاہد مریض عشق ہوں ساقی
مجھے کیا عذر پینے میں اگر سینے سے غم نکلے
محبت میں یہ دل آزاریاں اچھی نہیں ہوتیں
جسے دیکھو تری محفل سے وہ با چشم نم نکلے
ستاروں سے پرے کوئی ہمیں آواز دیتا ہے
کہیں ایسا نہ ہو سائیں وہاں سے بھی صنم نکلے
مری ہر بات پر ہنستے ہوئے کہتے ہیں وہ باقی
ترا ارمان تو شاید کبھی اگلے جنم نکلے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.