Ghar ghar mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Ali Rizvi Sachay
گھر گھر میں صفِ ماتمِ شبیر بچھا دے
نعمت غمِ شبیر کی گر تجھ کو خدا دے
دنیا کو پیامِ شہہِ مظلوم سنا دے
ماتم کی صدا سے دلِ باطل کو ہِلا دے
پردہ جو نگاہوں پہ ہے دنیا کی ہٹا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
ہے مرد وہی کر کے جو وعدے کو نبھا دے
ایک سَر کی ضرورت ہو بَہتر کا گَلہ دے
بازوئے علمدار دے بہنوں کی رِداء دے
جو کچھ بھی ہو سب راہِ محبت میں لُٹا دے
اِتنا دے کہ بدلے میں خدا سوچے کے کیا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
دنیا میں سدا بن کے رہو حق کے پیامی
ظالم کے مخالف رہو مظلوم کے حامی
اعمال کو کھا جاتی ہے ایمان کی خامی
ہر ایک کو ملتی نہیں سرور کی غلامی
نعمت یہ میسر ہے اسے جس کو خدا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
حق کیا ہے زمانے کو بتاتے ہوئے نِکلو
پردہ رُخِ باطل سے ہٹاتے ہوئے نِکلو
جاگے ہوئے فِتنوں کو سُلاتے ہوئے نِکلو
سوتے ہوئے ذہنوں کو جگاتے ہوئے نِکلو
نعرہ وہ کرو کفر کی دیوار جو ڈھا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
کوثر غمِ سرور میں لُٹاتے ہوئے نِکلو
روتے ہوئے دنیا کو رُلاتے ہوئے نِکلو
مظلوم کا پیغام سناتے ہوئے نِکلو
عباس کے پرچم کو اٹھاتے ہوئے نِکلو
ہر نقشِ قدم راہِ حقیقت کا پتا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
بتلاوء کہ شبیر سا رہبر نہ ملے گا
کونین میں ان کا کوئی ہمسر نہ ملے گا
سردارِ جناں ساقیِ کوثر نہ ملے گا
اِس در کے سِوا اور کوئی در نہ ملے گا
جس در پہ فرشتہ بھی گدا بن کے صدا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
ممکن نہ ہوا کر کے جو سرور نے دکھایا
خوشنودیِ مولا میں بھرے گھر کو لُٹایا
اکبر کو اٹھایا کبھی اصغر کو سُلایا
شبیر نے سَر دے کے زمانے کو بتایا
زندہ ہے وہی موت کی گردن جو جھکا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
بڑھتے ہوئے باطل کے قدم توڑنے والے
ایوانِ تکبر کے صنم توڑنے والے
اے تشنہ دہاں خاک پہ دَم توڑنے والے
حیران ہیں خود تجھ پہ ستم توڑنے والے
ہے کون تہہِ تیغ جو اُمت کو دعا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
یہ صبر یہ ضبط اور یہ ہمت نہیں دیکھی
انساں کی یہ معراج یہ عظمت نہیں دیکھی
جُز تیرے کسی میں بھی یہ جراَت نہیں دیکھی
حیدر کی قَسم ہم نے یہ قوت نہیں دیکھی
قِلت سے جو کثرت کے ارادوں کو مٹا دے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
کہنے کو مسلمان تھے وہ ظلم کے بانی
مہمان بُلا کر نہ دیا شاہ کو پانی
مٹی میں ملادی علی اکبر کی جوانی
ہمشکلِ پیمبر تھا وہ شبیر کا جانی
تصویر کا یہ رُخ بھی زمانے کو دکھادے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
بے شِیر کا ہاتھوں پہ تڑپتے ہوئے مرنا
ٹاپوں کے تَلے لاشہِ قاسم کا بِکھرنا
ہر بَرچھی کا اکبر کے کلیجے میں اُترنا
سب سامنے آنکھوں کے ہو اور اُف بھی نہ کرنا
کس دل میں یہ ہمت ہے یہ طاقت یہ بتادے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
چہرے پہ مَلے خون قدم تیز بڑھائے
ایک ننھی سی میت کو کلیجے سے لگائے
یہ کون چلا جاتا ہے گردن کو جُھکائے
ماں در پہ ہے خیمے کے کہیں دیکھ نہ پائے
فضہ سے کہو خیمے کے پردے کو گِرادے
گھر گھر میں صفِ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.